Chapter 1
۱

گھر کا آخری سال

رات کا آخری پہر تھا جب پرانی بس نے وادی کو پیٹھ دکھائی۔ اِس سے پہلے کہ مرغ بولتے، اِس سے پہلے کہ کسی کھڑکی میں دیا جلتا، میں سب سے پچھلی، پھٹی ہوئی سیٹ پر سکڑی بیٹھی تھی، کھڑکی سے لگی، جہاں شیشے پر میری اپنی سانس جم کر دھند بن چکی تھی۔ میں نے اُنگلی سے اُس دھند میں ایک ننھا سا سوراخ بنایا اور باہر جھانکا۔

اندھیرا تھا، پر وہ اندھیرا جو صبح سے ہار ماننے کو تھا۔ پہاڑ کالے، آسمان راکھ جیسا، اور نیچے، بہت نیچے، دریا ایک پتلی چاندی کی لکیر۔ وہی دریا جس کی آواز میں پلی بڑھی تھی۔ آج وہ مجھے چھوڑ رہا تھا، یا میں اُسے، یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا۔

بس کے اندر ڈیزل اور ٹھنڈے لوہے کی بو بھری تھی۔ آگے کہیں ایک بچہ نیند میں کلبلایا، کوئی بوڑھا رہ رہ کر کھانستا رہا، اور انجن ہر موڑ پر یوں کراہتا جیسے یہ سفر اُس کے بس کا نہ ہو۔ ایک نشست کے نیچے مرغیوں کا ٹوکرا رکھا تھا، اور چھت پر بندھے سامان کا بوجھ ہر جھٹکے پر چرچراتا۔ میں کونے میں تھی، جہاں سب سے کم روشنی پڑتی تھی، اور یہی مجھے چاہیے تھا۔

ساری عمر مجھے رنگ بھلے لگے تھے۔ کپڑے کی بناوٹ، کنارے کی باریک کڑھائی، اور وہ لمحہ جب کوئی سادہ دوپٹہ سی کر کسی کے کندھے پر جا سجتا۔ پر اُس رات میں نے جان بوجھ کر سب سے بے رنگ، سب سے پرانا جوڑا چنا تھا: گہرا خاکی، کہنیوں اور دامن سے گھسا ہوا، ایسا جس پر نظر ٹھہرتی نہیں، پھسل جاتی ہے۔ سر اور چہرہ میں نے ایک بڑی سیاہ چادر میں یوں لپیٹ رکھا تھا کہ صرف آنکھیں کھلی رہیں، اور وہ بھی جھکی ہوئی۔ میرے سنہرے بال اُس چادر کے نیچے دبے تھے، اور میری سبز آنکھیں، جن کے لیے عمر بھر لوگ مجھے گھورتے رہے تھے، اُس رات میری سب سے بڑی دشمن تھیں۔

جو کچھ میرے پاس تھا، وہ میرے بدن پر تھا۔ کپڑوں کی تہوں میں سِلا ہوا، اِتنا قریب کہ ہر سانس کے ساتھ اُٹھتا اور گرتا۔ میں نے اُسے ایک دن میں نہیں، برسوں میں جوڑا تھا، چپکے چپکے، ٹانکا ٹانکا۔

رات بھر میں نے کچھ نہ کھایا تھا، پر بھوک کا احساس تک نہ تھا؛ پیٹ میں بس ایک سخت، ٹھنڈی گرہ پڑی تھی۔ ایک بار کنڈکٹر کرایہ مانگنے آیا تو میں نے اُس کی طرف دیکھے بغیر، چادر کے پلو سے نوٹ نکال کر اُس کے ہاتھ پر رکھ دیے اور پھر کھڑکی کی طرف منہ پھیر لیا۔ مجھے یہ بات بہت پہلے سکھا دی گئی تھی: جو عورت آنکھ نہیں اٹھاتی، لوگ اُسے جلد بھول جاتے ہیں۔

اور میری مٹھی میں وہ سکّہ تھا۔ وہی پرانا، گھسا ہوا سکّہ۔ میں نے اُسے اِتنی زور سے بھینچ رکھا تھا کہ اُس کا کنارہ ہتھیلی میں گڑ گیا، پھر بھی میں نے ہاتھ ڈھیلا نہ کیا۔ بچپن سے، جب بھی کوئی دکھ یا ڈر مجھے گھیرتا، میں اِسی سکّے کو تھام لیتی تھی۔ اُس رات ڈر اِتنا بڑا تھا کہ میری پوری مٹھی اُس پر کانپ رہی تھی۔

ایک جگہ بس رُکی۔ سرد ہوا دروازے سے اندر گھسی، اور کسی نے ٹارچ کی روشنی سیٹوں پر پھیرنی شروع کی۔ میرا دل حلق میں آ گیا۔ میں نے آنکھیں موند لیں اور سانس روک لی، اور اُس ایک پل میں چودہ برس میرے سینے پر سے گزر گئے: ایک گھر جو کبھی میرا نہ بنا، ایک نام جسے میں نے شوہر کہا، اور وہ سب جو میں آج رات پیچھے چھوڑ آئی تھی۔ پھر روشنی آگے بڑھ گئی، بس ہچکولا کھا کر چل پڑی، اور میں نے وہ سانس چھوڑی جو نہ جانے کب سے اندر اٹکی تھی۔

آہستہ آہستہ پو پھٹنے لگی۔ پہاڑوں کے کنارے پر ایک ہلکی سرخی پھیلی، اور پہلی روشنی نے بس کے اندر آ کر میرے اُن ہاتھوں کو چھوا جو رات بھر مٹھی بنے رہے تھے۔ ہوا بدل رہی تھی؛ مٹی اور صنوبر کی وہ بو جو وادی کی پہچان تھی، اب پتلی پڑتی جا رہی تھی۔ پہلی بار مجھے لگا کہ میں کھل کر سانس لے سکتی ہوں، اور یہ احساس اِتنا انجانا تھا کہ ڈرا دینے والا تھا۔

ایک رات پہلے کا منظر بار بار آنکھوں کے سامنے آتا، اور میں ہر بار اُسے زبردستی پیچھے دھکیل دیتی۔ اُس رات کو میں نے سینے کے کسی بند کونے میں ڈال کر تالا لگا دیا تھا۔ ابھی صرف ایک کام تھا: یہاں سے دور ہو جانا، جتنی دور ہو سکے۔

میں نے پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ ڈر تھا کہ مڑی تو وادی مجھے دوبارہ اپنی طرف کھینچ لے گی، یا پیچھے سچ مچ کوئی کھڑا ہو گا۔ سامنے سڑک اندھیرے میں اترتی چلی جا رہی تھی، اُس شہر کی طرف جسے میں نے زندگی میں صرف ایک ٹوٹے ہوئے فون کی نیلی روشنی میں دیکھا تھا۔

لوگ سمجھتے ہیں کوئی عورت ایک ہی رات میں گھر سے نکل بھاگتی ہے۔ نہیں۔ میں اُس بس تک چودہ برس میں پہنچی تھی۔ اور یہ کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے جہاں میں ابھی پوری بچی تھی، اور اِس وادی کو اپنی ساری دنیا سمجھتی تھی۔

اُس برس مجھے خبر نہ تھی کہ یہ میرے اپنے گھر میں میرا آخری سال تھا۔ تیرہ کی تھی، چودہ ہونے کو تھی۔ سوات کی اُس وادی میں جہاں دریا دن بھر پتھروں سے جھگڑتا رہتا اور پہاڑ شام ڈھلے نیلے پڑ جاتے، ہمارا کچا گھر سب سے اوپر تھا، جیسے کسی نے غربت کو اُٹھا کر طاق پر دھر دیا ہو، کہ سب دیکھیں اور کوئی ہاتھ نہ لگائے۔

میرے بال سونے کے سے تھے اور آنکھیں سبز، اُس گندم جیسی جو پکنے سے پہلے ہوتی ہے۔ گاؤں کی بوڑھیاں مجھے دیکھ کر ہونٹوں میں کچھ پڑھتیں اور میرے ماتھے پر پھونک مار دیتیں کہ نظر نہ لگے۔ مجھے بہت دیر بعد سمجھ آئی کہ میری یہی صورت میرے گلے کی رسی تھی۔ جس چیز کی لوگ تعریف کرتے ہیں، اُسی کا بھاؤ بھی لگتا ہے۔

گھر میں ہم تین عورتیں تھیں اور ایک مرد۔ مور، جو بولنے سے پہلے دروازے کی طرف دیکھتی تھی۔ انا، جس کی پیٹھ جھک چکی تھی پر آواز نہیں۔ اور میں۔ مرد میرا پلار تھا، پائندہ خان، جو صبح خالی ہاتھ نکلتا اور رات کو اُس سے بھی خالی لوٹتا، بس ہار کی بو ساتھ لاتا۔

میرے پاس ایک ہنر تھا، اور وہ سوئی تھی۔ مجھے یاد نہیں کب سیکھا؛ لگتا ہے ہاتھ کے ساتھ ہی آئی تھی۔ پھٹا کپڑا میرے سامنے رکھ دیا جاتا تو میں اُسے یوں جوڑتی کہ ٹانکا ڈھونڈے سے نہ ملتا۔ گاؤں کی عورتیں اپنے دوپٹوں پر بیل بوٹے کڑھوانے میرے پاس لاتیں، اور جب وہ تیار دوپٹہ سر پر رکھ کر مڑتیں تو ایک لمحے کو وہ بھی شہر کی عورتیں لگنے لگتیں۔ اُس ایک لمحے کا نشہ مجھے سب سے پیارا تھا۔

رات کو، جب سب سو جاتے، میں پلار کا فون چپکے سے اُٹھا لیتی۔ پرانا فون تھا، اسکرین پر دراڑ پڑی ہوئی، پر اُس کی روشنی میرے لیے کسی کھڑکی سے کم نہ تھی۔ اُس نیلی روشنی میں دور کے شہروں کی عورتیں رہتی تھیں۔ صاف ستھری، کھلے بالوں والی، ایسے کپڑوں میں جن کا نام مجھے نہیں آتا تھا۔ وہ ہنستیں، گاڑیوں میں بیٹھتیں، شیشے کی دکانوں میں جاتیں جہاں ایک لباس کی قیمت ہمارے سال بھر کے آٹے سے زیادہ تھی۔ میں دم سادھے دیکھتی رہتی، جیسے کوئی پیاسا دور سے پانی کو دیکھے۔ اندر سے کوئی چپکے سے کہتا: یہ بھی کہیں ہے، یہ جھوٹ نہیں۔ اور اگر یہ کہیں ہے تو میرے لیے کیوں نہیں۔

یہ بات میں نے کسی سے نہ کہی۔ سوائے انا کے۔

انا میرے ساتھ ایک ہی لحاف میں سوتی تھی۔ اُس کے ہاتھ ٹھنڈے رہتے اور سانس میں الائچی کی بو۔ سب کے سو جانے کے بعد میں اُس کے کان میں اپنا سارا چور بازار کھول دیتی۔ ”انا،“ میں کہتی، ”ایک دن میں ایسے کپڑے بناؤں گی کہ شہر کی عورتیں میرا نام لے کر مانگیں گی۔ میری اپنی دکان ہو گی، شیشے کی، اُس پر میرا نام لکھا ہو گا۔“ میں سمجھتی تھی وہ ہنسے گی، یا مجھے چپ کرا دے گی جیسے باقی سب۔ پر انا نہ ہنستی۔ وہ اندھیرے میں میرے بالوں میں اُنگلیاں پھیرتی اور دھیرے سے کہتی، ”تیری مٹھی میں کچھ ہے، زرو۔ میں نے دیکھا ہے۔“

ایک رات اُس نے میری ہتھیلی میں ایک پرانا سکّہ رکھا، اِتنا گھسا ہوا کہ اُس پر کیا چھپا تھا، پہچانا نہ جاتا تھا۔ ”یہ سنبھال کر رکھنا،“ وہ بولی۔ ”اِسے کبھی خرچ نہ کرنا، کسی کو دینا نہیں۔ عورت کے پاس ایک چیز ضرور ہونی چاہیے جو بس اُس کی ہو۔ پھر اُسے کوئی پورا نہیں ہرا سکتا۔“ میں نے وہ سکّہ ہتھیلی پر اُلٹ پلٹ کر دیکھا۔ اِتنا پرانا اور گھسا ہوا تھا کہ بازار میں اِس کے بدلے کچھ نہ ملتا۔ میں سوچتی رہی، اِس کا کروں گی کیا؟ پر یہ انا کی نشانی تھی، اور انا کے پیار کے آگے میں اِسے کہیں رکھ کر بھول نہ سکتی تھی۔ سو میں نے اِسے سنبھال لیا، دل کو تسلی دینے والے کسی پتھر کی طرح۔ پھر جب بھی کوئی دکھ یا ڈر مجھے گھیرتا، میں چپکے سے یہی سکّہ مٹھی میں بھینچ لیتی، اور نہ جانے کیسے، اِس کی ٹھنڈک سے جی کچھ ہلکا ہو جاتا۔

مور اِن باتوں میں نہ ہوتی۔ وہ بہت پہلے ہار چکی تھی، اِتنی پہلے کہ اب اُسے ہار محسوس بھی نہ ہوتی۔ کبھی کبھی، جب میں فون پر جھکی ہوتی، وہ مجھے دیکھ لیتی۔ ڈانٹتی نہیں تھی، بس آہستہ سے کہتی، ”یہ آنکھیں نیچی رکھ، دختر۔ جو لڑکی اوپر دیکھتی ہے، لوگ اُس کے بارے میں باتیں بناتے ہیں۔“ اُس کی آواز میں غصہ نہیں ہوتا تھا، صرف تھکن، اور یہی مجھے سب سے زیادہ ڈراتی تھی: کہ ایک دن میری آواز بھی ایسی ہو جائے گی۔

پلار کا اپنا ایک جہان تھا، حجرے کے پیچھے، جہاں مرد دیر رات تک پتّے پھینٹتے۔ وہاں سے ہار اور جیت، دونوں ایک ہی بو لے کر آتیں۔ کچھ راتیں وہ مٹھی بھر نوٹ لے کر آتا اور مور کے آگے پھینک دیتا، جیسے کوئی احسان۔ زیادہ راتیں وہ خالی آتا، منہ پتھر کا، اور پھر گھر کی ہر چیز ٹوٹنے کے لیے تیار ہو جاتی۔ ہم سانس روک کر اُس کے قدموں کی چاپ گنتیں۔

پھر وہ دن آیا جب میرا چھپا ہوا جہان کھل گیا۔

ہوا یوں کہ ایک پڑوسن نے مجھے دکان کے باہر اپنی ہم عمر سے باتیں کرتے سن لیا، اُسی دنیا کی باتیں جو فون میں بستی تھی۔ میں کہہ رہی تھی کہ میں اِس گاؤں میں نہیں مروں گی، کہ میں یہاں سے نکلوں گی، شہر جاؤں گی، کچھ بنوں گی۔ بس اِتنا۔ پر گاؤں میں عورت کی زبان سے نکلی ’نکلوں گی‘ سے بڑا کوئی جرم نہیں۔ شام تک یہ بات گھوم پھر کر میرے پلار کے کانوں تک پہنچ گئی، اور ساتھ میں وہ سب بھی جو میں نے کبھی کہا ہی نہ تھا۔

اُس رات گھر میں جو خاموشی تھی، وہ مار سے زیادہ بھاری تھی۔ پلار نے مجھے نہیں مارا۔ وہ بس دیر تک مجھے دیکھتا رہا، جیسے پہلی بار دیکھ رہا ہو، اور جو دیکھ رہا تھا وہ اُسے ڈرا رہا تھا۔ ”یہ کیا پال لیا میں نے،“ اُس نے مور سے کہا، میری طرف اشارہ کیے بغیر، جیسے میں کمرے میں تھی ہی نہیں۔ ”جس لڑکی کے دل میں اِتنا ہو، وہ کسی کے قابو نہیں رہتی۔ یہ کل کو ہماری پگڑی اُتار دے گی۔“

مور نے سر جھکا لیا۔ انا نے کچھ کہنا چاہا تو پلار نے ایک نظر سے اُسے بٹھا دیا۔ اُس رات میں سمجھ گئی کہ میرا خواب، اپنوں کی نظر میں، میرے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا تھا۔

اِس کے بعد سب کچھ تیزی سے ہوا۔

ایک رات پلار مجھے اپنے ساتھ نہیں لے گیا، لیکن لے گیا ضرور: اُس نے مجھے گھر چھوڑا اور میرا نام اُس میز پر لے گیا جہاں پتّے چلتے تھے۔ بعد میں مجھے ٹکڑوں میں پتا چلا کہ اُس رات وہ پہلے ہی بہت کچھ ہار چکا تھا، اور سامنے ملک بہرام خان تھا، مجھ سے تین گنا بڑا، زمینوں اور قرضوں کا مالک۔ جب پلار کے پاس داؤ پر لگانے کو کچھ نہ بچا، تو اُس نے وہ چیز میز پر رکھ دی جس سے وہ سب سے زیادہ ڈرتا تھا۔

مجھے۔

لوگ کہتے ہیں جواری مجبوری میں سب کچھ ہار دیتا ہے۔ پر میں جانتی ہوں اُس رات میرا پلار مجھے ہارا نہیں تھا؛ اُس نے مجھے دے دیا تھا۔ میں اُس کی مجبوری نہیں، اُس کا مسئلہ تھی: ایسی بیٹی جو آنکھیں اوپر اُٹھاتی ہو، جو ’نکلوں گی‘ کہتی ہو۔ اور مرد ایسے مسئلے حل نہیں کرتے، اُنہیں کسی اور کے گھر بھیج دیتے ہیں۔ اُس بازی میں اُس نے ایک ساتھ دو قرض اُتارے: ایک رقم کا، اور ایک میرے اندر کے اُس شور کا جو اُسے رات کو جاگائے رکھتا تھا۔

ملک بہرام نے مجھے اپنے لیے نہیں مانگا تھا۔ اُس نے مجھے اپنے بیٹے کے لیے رکھ لیا، اپنی نسل کے لیے ایک خوبصورت، سنہرے بالوں والی بہو، جو اُس کے گھر بیٹے جنے۔ میرا نام، میرا ہنر، میرے خواب: اُس میز پر اِن میں سے کسی کا مول نہ تھا۔ مول صرف میری صورت کا تھا، اور میری کوکھ کا۔

جب یہ بات گھر آئی تو مور رو نہ سکی؛ وہ بہت پہلے رونا بھول چکی تھی۔ اُس نے بس میرے بال سنوارے، دیر تک، جیسے وہ بال سنوار رہی ہو جو اب اُس کے نہیں رہے۔ انا نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور میرے کان میں صرف اِتنا کہا: ”سکّہ مت بھولنا، زرو۔“

اُس رات میں نے وہ گھسا ہوا سکّہ نکالا اور مٹھی میں اِتنا بھینچا کہ اُس کا کنارہ ہتھیلی میں گڑ گیا۔ کھڑکی سے دریا کی آواز آ رہی تھی، وہی جو ساری عمر میرے ساتھ بہتی رہی تھی۔ اُنہوں نے سمجھا تھا کہ آج رات اُنہوں نے میرے اندر کا خواب مار دیا ہے۔

اُنہیں خبر نہ تھی۔ اُنہوں نے اُسے مارا نہیں تھا، بس وہاں چھپا دیا تھا جہاں اب کسی کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا تھا۔ میرے اندر۔

1 of 1 chapters